پاکستان
آخری ترمیم:

1,457
اسلام آباد
18,730
پنجاب
20,883
سندھ
7,391
خیبر پختونخواہ
3,198
بلوچستان
607
گلگت بلتستان
171
آزاد کشمیر
1,293
اسلام آباد
12,500
پنجاب
13,528
سندھ
4,713
خیبر پختونخواہ
2,397
بلوچستان
176
گلگت بلتستان
76
آزاد کشمیر
152
اسلام آباد
5,906
پنجاب
7,015
سندھ
2,297
خیبر پختونخواہ
762
بلوچستان
427
گلگت بلتستان
94
آزاد کشمیر
12
اسلام آباد
324
پنجاب
340
سندھ
381
خیبر پختونخواہ
39
بلوچستان
4
گلگت بلتستان
1
آزاد کشمیر
کُل مریض
Loading...
ذرائع
Loading...
پردیسی مقامی
نقشہ
کراچی 17% 8943
لاہور 13% 6867
پشاور 4.1% 2160
رائیونڈ 3.7% 1926
کوئٹہ 3.1% 1619
اسلام آباد 2% 1074
ملتان 1.9% 978
گوجرانوالہ 1.6% 842
راولپنڈی 1.5% 802
گجرات 1.1% 602
فیصل آباد 1.1% 571
سیالکوٹ 0.94% 494
سوات 0.77% 402
خیرپور 0.66% 347
سرگودھا 0.62% 325
مردان 0.57% 298
مالاکنڈ 0.54% 281
ڈیرہ غازی خان 0.53% 277
لاڑکانہ 0.49% 257
حیدر آباد 0.49% 257
سکھر 0.46% 241
مظفرگڑھ 0.37% 196
رحیم یار خان 0.32% 170
جہلم 0.31% 163
لوئر دیر 0.28% 149
Shikarpur 0.28% 149
بونیر 0.27% 142
گھوٹکی 0.26% 137
لودھراں 0.25% 129
نوشہرہ 0.24% 128
اپر دیر 0.24% 128
بہاولپور 0.24% 127
حافظ آباد 0.24% 126
جیکب آباد 0.21% 109
وہاڑی 0.21% 108
ایبٹ آباد 0.21% 108
شیخوپورہ 0.21% 108
مانسہرہ 0.2% 105
قصور 0.19% 98
خوشاب 0.18% 95
چارسدہ 0.18% 93
کوہاٹ 0.17% 91
بھکر 0.17% 91
Bajaur Agency 0.17% 88
بنوں 0.16% 84
منڈی بہاؤالدین 0.16% 83
نارووال 0.16% 82
شانگلہ 0.14% 75
Pishin 0.14% 72
شہید بینظیر آباد 0.13% 70
گلگت 0.12% 65
اٹک 0.12% 64
جھنگ 0.12% 63
صوابی 0.12% 62
استور‎ 0.12% 61
ننکانہ صاحب 0.12% 61
Battagram 0.11% 57
ڈیرہ اسمعیل خان 0.1% 54
بہاولنگر 0.1% 50
لیّہ 0.09% 47
ہری پور 0.09% 46
Kashmore 0.09% 46
کرم‎ ایجنسی 0.09% 46
چنیوٹ 0.08% 44
Chitral 0.08% 44
سانگھڑ 0.08% 42
مٹیاری 0.08% 40
Qilla Abdullah 0.07% 39
اوکاڑہ 0.07% 38
Pak Pattan 0.07% 38
کرک 0.07% 37
Sahiwal 0.07% 36
راجن پور 0.06% 33
ٹوبہ ٹیک سنگھ 0.06% 31
میانوالی 0.06% 30
Kambar Shahdadkotr 0.05% 28
Jaffarabad 0.05% 27
Khanewal 0.05% 24
ٹنڈو محمد خان 0.05% 24
ہنگو 0.04% 23
چکوال 0.04% 21
Mastung 0.04% 19
چاغی 0.03% 17
دادُو 0.03% 16
جامشورو 0.03% 16
Tando Alahyar 0.03% 16
Sibi 0.02% 13
سُجاول 0.02% 12
Diamer 0.02% 10
اورکزئی 0.02% 9
Mirpurkhas 0.02% 9
موحمند ایجنسی 0.02% 9
بدین 0.02% 8
Thatta 0.02% 8
Ziarat 0.02% 8
بھمبر 0.02% 8
لورالائی 0.01% 7
شمالی وزیرستان 0.01% 7
لکی مروت 0.01% 6
سکردو 0.01% 4
Umarkot 0.01% 4
کوٹلی 0.01% 3
خاران 0.01% 3
مظفر آباد 0.01% 3
نوشہرو فیروز 0.01% 3
جنوبی وزیرستان 0% 2
ہرنائی 0% 1
خزدار 0% 1
Tharparkar 0% 1
روزانہ مریض
Loading...
مریض
Loading...
زیرِعلاج صحت یاب اموات
ٹیسٹ
Loading...
سرکاری ٹیسٹ پرائیویٹ ٹیسٹ مریض
روزانہ ٹیسٹ
Loading...
روزانہ اموات
Loading...
Deaths
Loading...
مریض اموات
اموات
کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس جراثیم کی ایک ایسی نسل ہے جو جانداروں میں صرف انسانوں اور جانوروں کا متاثر کرتی ہے۔ انسانوں میں یہ وائرس عموماً سانس کا انفیکشن پیدا کرتا ہے، جو کہ عام فلو سے لے کر پھیپڑوں کی انتہائی شدید نوعیت تک کی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس وائرس کا تازہ ترین انفیکشن کورونا وائرس بیماری، یعنی کووڈ ۱۹ ہے۔

کووڈ ۱۹ کیا ہے؟

کووڈ ۱۹ ایسا متعدی مرض ہے جس کا سبب حال ہی میں دریافت ہونے والا کورونا وائرس ہے۔ دسمبر ۲۰۱۹ میں چین کے شہر ووہان میں وبائی صورت میں رونما ہونے سے پیشتر کوئی اس نئے وائرس اور بیماری سے واقف نہ تھا۔

کووڈ ۱۹ کی علامات کیا ہیں؟

کووڈ۱۹ کی سب سے عام علامات ہیں: بخار، تھکن اور خشک کھانسی۔ انفیکشن کے کچھ مریض جسم میں درد، ناک میں سوزش، ناک کا بہنا، اور گلا اور پیٹ خراب ہونے کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ یہ علامات عموماً معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں اور بتدریج شروع ہوتی ہیں۔ کچھ مریض انفیکشن سے متاثرہ ہونے کے باوجود نہ کسی قسم کی علامات ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی خود کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔ زیادہ تر افراد (قریباً۸۰ فی صد) کسی خاص علاج کے بغیر خود ہی صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ہر ۶ متاثرہ افراد میں سے کوئی ۱ فرد ایسا ہوتا ہے جو کو-وڈ۱۹ میں شدید بیمار ہو جائے اور سانس لینے میں دقت محسوس کرنے لگے۔ وائرس سے متاثر ہونے والوں میں سے معمر افراد، اور ایسے لوگ جنہیں پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، دل کی تکلیف، اور ذیابیطس جیسے صحت کے مسائل لاحق ہوں، شدید نوعیت کا بیمار ہو سکتے ہیں۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دقت کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔

کووڈ ۱۹ کیسے پھیلتا ہے؟

کووڈ۱۹  کے ایک مریض سے رابطے میں آنے والے تمام لوگ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ مرض ایک فرد سے دوسرے فرد تک مریض کے ناک یا منہ سے نکلتی سانس کی نمی کی نا نظر آنے والی ننھی بوندوں کے ذریعے پھیلتا ہے، جو مریض کے چھینکتے اور کھانستے وقت دور تک جا سکتی ہیں۔ سانس کے یہ قطرے مریض کے ارد گرد موجود اشیا کی سطح کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ دوسرے صحتمند افراد جب ان چیزوں سے رابطے میں آتے ہیں تو یہ جراثیم ان کے ہاتھوں کے ذریعے ان کی آنکھوں، ناک اور منہ تک پہنچ کر کو-وڈ۱۹ کے پھیلاو کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مریض سے براہ راست رابطے میں ہونے سے بھی یہ مرض پھیلتا ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض سے کم از کم ۱ میٹر (۳ فٹ) کا فاصلہ رکھا جائے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کووڈ ۱۹ کے پھیلاو کو بہتر سمجھنے کے لیے تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس ضمن میں ہونے والی ہر پیش رفت سے عوام کو باخبر رکھے گی۔

کیا کووڈ ۱۹ کا سبب بننے والا وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے؟

اب تک کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ ۱۹ کا سبب بننے والا وائرس ہوا کے ذریعے سفر نہیں کرتا بلکہ سانس کی رطوبت یا نمی کو چھونے سے پھیلتا ہے۔

عوام کے لیے احتیاطی تدابیر

یہ چند آسان احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اپنا کرآپ خود کو کووڈ۱۹ کا شکار ہونے سے، اور دوسروں تک اس وائرس کو پھیلانے سے بچا سکتے ہیں۔

  • باقاعدگی سے اپنے ہاتھ اچھی طرح صاف کریں۔ اس کے لیے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے دھوئیں یا پھر الکحول سے بنے ہینڈ سیناٹائزر سے ہاتھ ملیں۔
  • میل ملاپ میں کم از کم ۱میٹر (۳فٹ) کا فاصلہ رکھیں۔ ہمارے سانس سے وہ قطرے خارج ہوتے ہیں جو اس وائرس کے پھیلاو کا سبب بنتے ہیں۔
  • اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کے تمام عزیز اور ارد گرد افراد سانس سے منسلک حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں، یعنی:
    – چھینکتے اور کھانستے وقت اپنا ناک اور منہ اپنی کہنی کی اندرونی طرف سے یا ٹشو سے ڈھانپنا،
    – چھینکنے یا کھانسنے کے فوراً بعد ٹشو کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دینا۔
  • گھر پر رہیں۔ بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دقت محسوس ہونے کی صورت میں فوراً طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔ اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
  • اپنے قریب کو-وڈ۱۹ کے بڑھتے پھیلاو کے علاقوں کی معلومات سے خود کو باخبر رکھیے۔ ایسی تمام جگہوں سے خود کو ہر ممکن طور پر دور رکھیے، خصوصاً اگر آپ کی عمر زیادہ ہے، یا آپ کو ذیابیطس، دل یا پھیپڑوں کی کوئی بھی تکلیف لاحق ہے۔

ماخذ: عالمی ادارۂ صحت

یہ ویب سائٹ مندرجہ ذیل زبانوں میں بھی دستیاب ہے