پاکستان
آخری ترمیم:

3,946
اسلام آباد
33,144
پنجاب
33,536
سندھ
11,890
خیبر پختونخواہ
5,582
بلوچستان
852
گلگت بلتستان
299
آزاد کشمیر
3,256
اسلام آباد
24,709
پنجاب
16,179
سندھ
8,148
خیبر پختونخواہ
3,492
بلوچستان
299
گلگت بلتستان
110
آزاد کشمیر
649
اسلام آباد
7,806
پنجاب
16,782
سندھ
3,221
خیبر پختونخواہ
2,037
بلوچستان
541
گلگت بلتستان
182
آزاد کشمیر
41
اسلام آباد
629
پنجاب
575
سندھ
521
خیبر پختونخواہ
53
بلوچستان
12
گلگت بلتستان
7
آزاد کشمیر
کُل مریض
Loading...
ذرائع
Loading...
پردیسی مقامی
نقشہ
لاہور 13% 11203
کراچی 12% 11088
پشاور 3.7% 3346
رائیونڈ 2.2% 1926
اسلام آباد 2.1% 1917
راولپنڈی 2.1% 1852
کوئٹہ 1.8% 1619
ملتان 1.7% 1514
گوجرانوالہ 1.5% 1314
فیصل آباد 1.4% 1222
سوات 0.96% 855
سیالکوٹ 0.9% 800
گجرات 0.73% 651
مردان 0.49% 441
سرگودھا 0.49% 440
مالاکنڈ 0.47% 418
ڈیرہ غازی خان 0.46% 408
حافظ آباد 0.39% 346
حیدر آباد 0.38% 335
شیخوپورہ 0.38% 335
سکھر 0.34% 299
لوئر دیر 0.31% 277
ایبٹ آباد 0.31% 276
لاڑکانہ 0.3% 267
قصور 0.29% 257
رحیم یار خان 0.28% 254
نوشہرہ 0.27% 242
گھوٹکی 0.26% 230
جہلم 0.24% 215
مظفرگڑھ 0.22% 196
منڈی بہاؤالدین 0.22% 196
چارسدہ 0.21% 191
Bajaur Agency 0.21% 185
بہاولپور 0.2% 180
لودھراں 0.2% 177
اپر دیر 0.19% 171
بونیر 0.19% 169
وہاڑی 0.16% 140
صوابی 0.15% 136
خوشاب 0.15% 130
شانگلہ 0.14% 127
مانسہرہ 0.14% 127
کوہاٹ 0.13% 120
نارووال 0.13% 119
Shikarpur 0.13% 114
ننکانہ صاحب 0.13% 114
بھکر 0.12% 105
Sahiwal 0.11% 102
کرم‎ ایجنسی 0.11% 101
گلگت 0.11% 97
Battagram 0.11% 94
ڈیرہ اسمعیل خان 0.1% 91
ہری پور 0.1% 89
بنوں 0.1% 85
اٹک 0.1% 85
جیکب آباد 0.09% 83
جھنگ 0.09% 77
بہاولنگر 0.08% 74
Pishin 0.08% 72
لیّہ 0.08% 70
Kambar Shahdadkotr 0.08% 68
کرک 0.07% 66
Chitral 0.07% 60
اوکاڑہ 0.06% 56
راجن پور 0.06% 55
Pak Pattan 0.06% 53
خیرپور 0.06% 51
چنیوٹ 0.06% 50
ٹوبہ ٹیک سنگھ 0.06% 50
Thatta 0.05% 47
سانگھڑ 0.05% 45
Khanewal 0.05% 45
میانوالی 0.05% 45
Qilla Abdullah 0.04% 39
جامشورو 0.04% 38
Kashmore 0.04% 35
چکوال 0.04% 34
Jaffarabad 0.03% 27
ہنگو 0.03% 25
Mirpurkhas 0.03% 25
بدین 0.03% 24
شہید بینظیر آباد 0.03% 24
Mastung 0.02% 19
Hunza 0.02% 18
موحمند ایجنسی 0.02% 18
دادُو 0.02% 17
استور‎ 0.02% 17
چاغی 0.02% 17
Ghanche 0.02% 14
Sibi 0.01% 13
Umarkot 0.01% 11
سکردو 0.01% 10
نوشہرو فیروز 0.01% 10
اورکزئی 0.01% 9
لکی مروت 0.01% 9
Ziarat 0.01% 8
بھمبر 0.01% 8
شمالی وزیرستان 0.01% 8
ٹنڈو محمد خان 0.01% 8
Ghizer 0.01% 7
لورالائی 0.01% 7
مٹیاری 0.01% 6
سُجاول 0.01% 6
Diamer 0.01% 5
Tando Alahyar 0.01% 5
Tharparkar 0% 4
کوٹلی 0% 3
خاران 0% 3
مظفر آباد 0% 3
جنوبی وزیرستان 0% 3
ہرنائی 0% 1
خزدار 0% 1
روزانہ مریض
Loading...
مریض
Loading...
زیرِعلاج صحت یاب اموات
ٹیسٹ
Loading...
سرکاری ٹیسٹ پرائیویٹ ٹیسٹ مریض
روزانہ ٹیسٹ
Loading...
روزانہ اموات
Loading...
Deaths
Loading...
مریض اموات
اموات
کورونا وائرس کیا ہے؟

کورونا وائرس جراثیم کی ایک ایسی نسل ہے جو جانداروں میں صرف انسانوں اور جانوروں کا متاثر کرتی ہے۔ انسانوں میں یہ وائرس عموماً سانس کا انفیکشن پیدا کرتا ہے، جو کہ عام فلو سے لے کر پھیپڑوں کی انتہائی شدید نوعیت تک کی بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس وائرس کا تازہ ترین انفیکشن کورونا وائرس بیماری، یعنی کووڈ ۱۹ ہے۔

کووڈ ۱۹ کیا ہے؟

کووڈ ۱۹ ایسا متعدی مرض ہے جس کا سبب حال ہی میں دریافت ہونے والا کورونا وائرس ہے۔ دسمبر ۲۰۱۹ میں چین کے شہر ووہان میں وبائی صورت میں رونما ہونے سے پیشتر کوئی اس نئے وائرس اور بیماری سے واقف نہ تھا۔

کووڈ ۱۹ کی علامات کیا ہیں؟

کووڈ۱۹ کی سب سے عام علامات ہیں: بخار، تھکن اور خشک کھانسی۔ انفیکشن کے کچھ مریض جسم میں درد، ناک میں سوزش، ناک کا بہنا، اور گلا اور پیٹ خراب ہونے کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ یہ علامات عموماً معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں اور بتدریج شروع ہوتی ہیں۔ کچھ مریض انفیکشن سے متاثرہ ہونے کے باوجود نہ کسی قسم کی علامات ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی خود کو بیمار محسوس کرتے ہیں۔ زیادہ تر افراد (قریباً۸۰ فی صد) کسی خاص علاج کے بغیر خود ہی صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ہر ۶ متاثرہ افراد میں سے کوئی ۱ فرد ایسا ہوتا ہے جو کو-وڈ۱۹ میں شدید بیمار ہو جائے اور سانس لینے میں دقت محسوس کرنے لگے۔ وائرس سے متاثر ہونے والوں میں سے معمر افراد، اور ایسے لوگ جنہیں پہلے سے ہائی بلڈ پریشر، دل کی تکلیف، اور ذیابیطس جیسے صحت کے مسائل لاحق ہوں، شدید نوعیت کا بیمار ہو سکتے ہیں۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دقت کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔

کووڈ ۱۹ کیسے پھیلتا ہے؟

کووڈ۱۹  کے ایک مریض سے رابطے میں آنے والے تمام لوگ وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ مرض ایک فرد سے دوسرے فرد تک مریض کے ناک یا منہ سے نکلتی سانس کی نمی کی نا نظر آنے والی ننھی بوندوں کے ذریعے پھیلتا ہے، جو مریض کے چھینکتے اور کھانستے وقت دور تک جا سکتی ہیں۔ سانس کے یہ قطرے مریض کے ارد گرد موجود اشیا کی سطح کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ دوسرے صحتمند افراد جب ان چیزوں سے رابطے میں آتے ہیں تو یہ جراثیم ان کے ہاتھوں کے ذریعے ان کی آنکھوں، ناک اور منہ تک پہنچ کر کو-وڈ۱۹ کے پھیلاو کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مریض سے براہ راست رابطے میں ہونے سے بھی یہ مرض پھیلتا ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض سے کم از کم ۱ میٹر (۳ فٹ) کا فاصلہ رکھا جائے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کووڈ ۱۹ کے پھیلاو کو بہتر سمجھنے کے لیے تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس ضمن میں ہونے والی ہر پیش رفت سے عوام کو باخبر رکھے گی۔

کیا کووڈ ۱۹ کا سبب بننے والا وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے؟

اب تک کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ ۱۹ کا سبب بننے والا وائرس ہوا کے ذریعے سفر نہیں کرتا بلکہ سانس کی رطوبت یا نمی کو چھونے سے پھیلتا ہے۔

عوام کے لیے احتیاطی تدابیر

یہ چند آسان احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اپنا کرآپ خود کو کووڈ۱۹ کا شکار ہونے سے، اور دوسروں تک اس وائرس کو پھیلانے سے بچا سکتے ہیں۔

  • باقاعدگی سے اپنے ہاتھ اچھی طرح صاف کریں۔ اس کے لیے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے دھوئیں یا پھر الکحول سے بنے ہینڈ سیناٹائزر سے ہاتھ ملیں۔
  • میل ملاپ میں کم از کم ۱میٹر (۳فٹ) کا فاصلہ رکھیں۔ ہمارے سانس سے وہ قطرے خارج ہوتے ہیں جو اس وائرس کے پھیلاو کا سبب بنتے ہیں۔
  • اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔
  • اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اور آپ کے تمام عزیز اور ارد گرد افراد سانس سے منسلک حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کر رہے ہیں، یعنی:
    – چھینکتے اور کھانستے وقت اپنا ناک اور منہ اپنی کہنی کی اندرونی طرف سے یا ٹشو سے ڈھانپنا،
    – چھینکنے یا کھانسنے کے فوراً بعد ٹشو کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دینا۔
  • گھر پر رہیں۔ بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دقت محسوس ہونے کی صورت میں فوراً طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔ اپنے ڈاکٹر کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
  • اپنے قریب کو-وڈ۱۹ کے بڑھتے پھیلاو کے علاقوں کی معلومات سے خود کو باخبر رکھیے۔ ایسی تمام جگہوں سے خود کو ہر ممکن طور پر دور رکھیے، خصوصاً اگر آپ کی عمر زیادہ ہے، یا آپ کو ذیابیطس، دل یا پھیپڑوں کی کوئی بھی تکلیف لاحق ہے۔

ماخذ: عالمی ادارۂ صحت

یہ ویب سائٹ مندرجہ ذیل زبانوں میں بھی دستیاب ہے